فروری1, 2015، امتحانات کا سفر شروع ہوا جو کہ ابھی تک پورے جوش و خروش سے رواں دواں ہے۔ ان گنت امتحانات دیے مگر کچھ امتحانات ایسے ہوتے ہیں جو یادوں میں بس جاتے ہیں اور جب بھی اُن کو یاد کیا جائے انسان بیٹھ بیٹھے مسکرانا شروع کر دیتا ہے۔ آج میں آپ سے کو ایسے ہی امتحان کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں۔

 مئی7، 2025 ء بی اے پارٹ( ٹو)عربی کا امتحان تھا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اگر آپ کی یاداشت کچھ زیادہ بری نہیں ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس تاریخ کو کیا ہوا تھا ۔ پاک بھارت جنگ۔ سب طالب علموں کے امتحان ملتوی کر دیے گئے تھے جو کہ میرے لیے پریشانی کی بات تھی۔ کیونکہ میرا امتحان یونیورسٹی نے لینا تھا نہ کہ لاہور بورڈ نے۔ بیوقوف کبھی بھی اپنے چہرے سے نہیں پہچانے جاتے اُن کو میرے جیسے کام کر کے دکھانا پڑتے ہیں۔ بیوقوف کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا ہے۔ میری حالت بھی اُس دن کچھ ایسی ہی تھی۔ نیوز چینل والے بھی لاہور بورڈ کے امتحانات کے بارے میں ہی بتا رہے تھے۔

 میں نے اس لمحے، خود امتحانی سنٹر جا کرتصدیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں چلا گیا اور پیپر نہ ہوا تو 150 سے 200 کا نقصان ہوگا اور اگر میں نہ گیا اور پیپر ہوا تو گیارہ سے بارہ ہزار اور نقصان کا نقصان ہو گا۔ تو میں نے چلے جانا ہی مناسب سمجھا۔ خیر نقصان 150 سے 200 کا ہی ہوا اور  اُن دوستوں سے باتیں سننی پڑیں جو صبح سے مجھے یہ بتا رہے تھے کہ امتحان ملتوی ہو گیا ہے، اب وہ دوبارہ تاریخ دیں گے۔

خیر دو دن بعد پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے میرے فون نمبر پر میسج موصول ہوا کہ ملتوی امتحان اب 13 مئی کو مقررہ وقت یعنی 2 بجے لیا جائے گا۔ تیاری میں پہلے ہی مکمل کر چکا تھا۔ خیر مقررہ وقت اور تاریخ پر امتحان دینے امتحانی سنٹر چلا گیا۔ رول نمبر تلاش کرنے کے بعد میں اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ دو سے تین منٹ کے بعد پیپر سامنے آیا۔ میری تیاری مکمل تھی اس لیے میں نے پہلا سوال پڑھا اور اُس کا جواب تحریر کرنا شروع کر دیا اور دوسرے سوالات کو دیکھنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ جواب مکمل تحریر کرنے کے بعد جب میں نے دوسرے سوال پر نظر ڈالی تو وہ کسی اور خاندان کا معلوم ہوا، میں نے آگے چلنا مناسب سمجھا اور تیسرے پر نظر ڈالی تو وہ تو کسی اور ہی مذہب کا معلوم ہوا۔ اسی طرح چلتے چلتے سب سوالوں پر نظر ڈالی تو میرے تعلق والا، خاندان والا اور مذہب والا صرف ایک ہی سوال تھا جو میں کر چکا تھا۔

میں نے اپنے پیچھے والے کی طرف دیکھا، وہ مجھ سے بھی زیادہ مایوس تھا۔ اس پریشانی کے عالم میں بڑے بزرگوں کی بات یاد آئی جس پر میں بالکل بھی یقین نہ رکھتا تھا، اور وہ یہ تھی کہ جو کچھ مرضی ہو جائے پیپر خالی نہیں چھوڑنا، اپنے پاس سے لکھ آنا۔ مگر مجھ سے تو سوالات پڑھنا بھی مشکل لگ رہا تھا کیونکہ پیپر عربی کا تھا۔ مجھے عربی پڑھنا تو آتی تھی مگر اُس کا ترجمہ کرنا نہیں آتا تھا اور نہ ہی کبھی ضرورت محسوس کی تھی، کیونکہ ایک دن ایک حضرت صاحب کو سن رہا تھا جو یہ بتا رہے تھے کہ عالم کے بغیر گھر پر ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنا آپ کو گمراہ کر دے گا۔ لیکن میں، جو کہ ایک سے زیادہ دفعہ ترجمے کے ساتھ پڑھ چکا تھا، شاید اُن کی نظر میں میں بھی ایک گمراہ شخص ہی ہوں۔ خیر اس بات کو یہاں بیان کرنا  نامناسب ہو گا۔ ہم اپنے امتحان کی طرف چلتے ہیں۔

اُن سوالات کے جواب میں کیسے دیتا، مجھے تو مطلب ہی نہیں پتا تھا، اس لیے میں نے سوالیہ پرچے کو جیب میں ڈالنا مناسب سمجھا۔ کیونکہ مجھے پریشانی کی وجہ سے پسینہ بھی آنا شروع ہو گیا تھا۔ میں نے اللہ کو یاد کیا اور جوابی کاپی پر مارکر کے ساتھ سوال نمبر 2 لکھا اور جو سوال یاد تھا لکھنا شروع کر دیا۔ میں سوال بھی اپنے پاس سے لکھتا اور جو اُس کاصحیح جواب ہوتا وہ لکھ دیتا۔ مکمل نااہلی سے جوابات تحریر کیے اور دل میں فیل ہونے کا اندازہ لگا کر امتحانی سنٹر سے باہر آ گیا اور دوست کو فون کر کے بتایا کہ میں تو پکا ہی فیل ہوں۔

لیکن معجزے ہمیشہ مشکلات میں ہی ہوتے ہیں۔ پیپر چیک کرنے والے کا تعلق بھی میرے ہی مذہب سے تھا کیونکہ ایسا لگ رہا تھا کہ اُس نے بھی سوالیہ پرچہ ملتے ہی اپنی جیب میں ڈال لیا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ اس  کے پاس جاؤں اور گلے سے لگا کر لوں چُمّی اور پوچھو چاچا تم کس دنیا سے آئے ہو تم تو جنتی معلوم ہوتے ہو۔ کیوں اُس چاچے نے مجھے 55 نمبر دے کر پاس کر دیا تھا مگر افسوس میں اُن کو جانتا نہیں تھا۔ آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے استاد کی جگہ لفظ چاچا کیوں استعمال کیا ہے۔ کیا آپ یہ نہیں سوچ رہے تھے چلو پھر آپ کی اپنی مرضی ہے۔ اُس دن کے بعد میں بھی اپنے بزرگوں میں شامل ہو گیا جو یہ کہتے تھے کہ پیپر خالی نہیں دینا۔

اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا حادثہ کبھی ہوا ہے، معاف کیجیے گا میں یہاں معجزہ لکھنا چاہ رہا تھا، اگر ہوا ہے تو ضرور بتائیے گا Comment میں۔