خوش کیسے رہا جا سکتا ہے؟






 اس جدید دنیا میں لوگ خوش رہنے کے لیے پریشان ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اب خوش رہنے کے لیے بھی پریشان ہونا ضروری ہے؟ آج میں کوشش کروں گا کہ آپ کو خوش رہنے کے کچھ ایسے طریقے بتاؤں جنہیں میں خود اپنی روزمرہ زندگی میں اختیار کرتا ہوں۔

اگر آپ یہ سوچنے بیٹھیں کہ خوشی آپ کو کسی خاص مقام یا مقررہ وقت پر ملے گی، تو یہ آپ کی بھول ہے۔ مثلاً، اگر آپ طالبِ علم ہیں تو آپ سوچتے ہیں کہ تعلیم مکمل ہونے پر خوشی ملے گی، اور اگر آپ نوکری کرتے ہیں تو تھوڑی زیادہ سیلری (Salary) ملنے پر آپ خوشی کے حق دار بنیں گے۔ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو معاف کیجیے گا، آپ یہاں پر غلط ہیں! کیونکہ جب تک آپ کو یہ چیز حاصل نہیں ہوگی، تب تک آپ اسی طرح پریشان رہیں گے۔ خوشی اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے جسے محسوس کیا جاتا ہے، اور اسے محسوس کرنے کے لیے کسی مخصوص مقام اور وقت کی شرط ضروری نہیں ہے۔

خوشی کو محسوس کیسے کرتے ہیں؟

جیسے کے پیچھے میں آپ کو بتاتا چکا ہوں کہ اس کے لیے وقت اور مقام کی شرط ضروری نہیں، اس کا مطلب آپ ہر وقت اسے محسوس کر سکتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے؟ اب اگر انسان خاموش بیٹھا مسکرانا شروع کر دے گا تو پھر تو وہ پاگل لگنا شروع ہو جائے گا۔ اس بات پر میرا آپ کو یہی کہنا ہے کہ خدا کے واسطے آپ نہ مسکرائیے گا، آپ صرف دل میں مسکرائیے گا۔

پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہر حال میں شکر کریے۔ اگر آپ گھر سے نان چنے لینے گئے ہیں تو آپ نان کی جگہ کلچے لگوا کر خود کو چوہدری سمجھنا شروع کر دیں اور اس خوشی کو محسوس کریں۔ بجلی جانے کا وقت ہو گیا ہو اور بجلی نہ جائے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے پاکستان میں۔ خوشی ایک ایسی چیز ہے جس کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ یہ آپ کے اندر ہوتی ہے، بس اس کو محسوس کرنا پڑتا ہے۔ اگر دن میں آپ نے کوئی نئی چیز سیکھی ہے یا کوئی اچھا کام کیا ہے تو اس پر خوش ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ ایک گھریلو خاتون ہیں، تو آپ روٹی کے گول پکنے پر خوشی محسوس کر سکتی ہیں۔ کھانا جلنے سے بچنے پر، برتن بہتر صاف ہونے پر یا بچوں کو کھانا پسند آ جانے پر آخر والا تھوڑا مشکل کام ہے، کیونکہ بچوں کو گھر کا کھانا کم ہی پسند آتا ہے۔ جیسے کہ میں آج تک اپنی والدہ کے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں آیا، باقی ہر کسی کے ہاتھ کا پسند آ جاتا ہے، بلکہ اپنے دوست کی والدہ کے ہاتھ کا کھانا بھی چند روز بعد کھاتا رہتا ہوں۔ مگر ہر کسی کی اولاد میری طرح کی گندی اولاد تو نہیں ہوتی۔ حالانکہ کچھ لوگ تو اپنی والدہ کے کھانے کی کچھ زیادہ ہی تعریف کرتے ہیں۔

میری باتیں پڑھ کر زیادہ جذباتی بھی نہ ہو جانا، یہ نہ ہو کہ کل کو کسی کے گھر فوتگی پر جاؤ اور اس بات پر خوش ہونا شروع ہو جاؤ کہ "آج تو مفت میں بریانی ملے گی" یا پھر فوت ہونے والے فرد کی اولاد سے یہ نہ کہہ دینا کہ "بھائی! آپ اس بات پر خوشی محسوس کرنا شروع کر دو کہ اب آپ کے گھر میں ایک فرد کا کھانا کم بنے گا، یہ خرچہ کم ہو جائے گا!" اگر ایسا کیا، تو اگلے دن لوگ آپ کی بریانی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔

"آج آپ کے ساتھ ایسا کون سا چھوٹا سا اچھا واقعہ ہوا یا آپ نے کون سی نئی چیز سیکھی، جس پر آپ دل ہی دل میں مسکرا رہے ہیں؟ کمنٹس میں ضرور بتائیے"




Post a Comment

0 Comments