"مذہب کا حق: کیا ہمیں اپنا عقیدہ خود چننے کی آزادی ہونی چاہیے؟"

 



آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہر طرف انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے، جو کہ بہت ہی اچھی بات ہے اور یہ ہونی بھی چاہیے۔ جیسے آج ہر طرف عورتوں، بچوں اور غریبوں کے حقوق کی بات ہو رہی ہے۔ مگر یہاں ایک ایسا حق بھی ہے جس پر میں نے کبھی کسی مذہبی، سیاسی یا سماجی جماعت کو بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور وہ ہے "مذہب کا حق" یعنی اپنا مذہب خود اختیار کرنے کا حق۔

انسان کے پیدا ہوتے ہی اسے اس کا مذہب دے دیا جاتا ہے۔ اگر وہ کسی مسلمان کے گھر پیدا ہوا ہے تو وہ مسلمان ہوگا اور اگر کسی ہندو، سکھ، عیسائی یا یہودی گھرانے میں پیدا ہوا ہے تو اسے وہی مذہب دیا جائے گا۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو خود اپنا مذہب اختیار کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟ آج 18 سال سے چھوٹے بچے کو ملک کا شناختی کارڈ نہیں دیا جاتا کہ ابھی وہ غیر ذمہ دار ہے، نوکری کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ جائداد کا وارث نہیں بن سکتا اپنی مرضی سے خرید اور بیچ نہیں سکتا، یہاں تک کہ شادی کرنے کے لیے بھی لڑکے کی عمر 18 سال اور لڑکی کی عمر 16 سال ضروری ہے۔ مذہب، جو کہ سب سے سنجیدہ معاملہ ہے، وہ پیدائش کے ساتھ ہی عطا کر دیا جاتا ہے۔

اپنے مذہب کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے اوپر تحقیق کرنا بھی کوئی پسندیدہ عمل نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی اپنا مذہب چھوڑ دے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے، چاہے  کوئی بھی مذہب ہواس بات پر کوئی معافی نہیں ہے۔ اس کا بہترین حل تو یہ ہے کہ پیدائش سے لے کر ایک خاص عمر تک انسان کو تمام مذاہب کی تعلیم دی جانی چاہیے، تاکہ وہ اپنی مرضی کا مذہب اختیار کر سکے۔ اور اس کے پاس اس کا کوئی خاص سبب (یا دلیل) موجود ہو۔ آج ہمارے پاس مذہب اختیار کرنے کی کوئی خاص دلیل موجود نہیں ہے، ہمارے پاس آج یہ کہنے کے سوا کہ 'ہمارے والدین کا یہ مذہب تھا' اس لیے ہمارا بھی یہ ہی ہے،اس کے علاوہ اور کوئی اور دلیل نہیں ہوتی۔

آج ہمارے پاس اگر کسی دوسرے مذہب کا فرد آ کر بیٹھ جائے، تو ہمارے پاس کوئی دلیل یا علم کی بات نہیں ہوتی کہ ہم اس کے مذہب پر بات کر سکیں یا اسے غلط قرار دے سکیں، کیونکہ ہمیں صرف اتنا بتا دیا جاتا ہے کہ ہمارا مذہب سچا اور اور باقی سب کے سب جھوٹے ہیں۔ مگر جھوٹے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ہمارا پاس کچھ تو علم ہونا چاہیے۔ جس کے ذریعے ہم اس کو بتائیں کہ یہاں پر آپ کے مذہب میں غلطی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں ہے جو یہ کہتا ہو کہ ہم اپنے لوگوں کو تمام مذاہب کی تعلیم دیں گے، جس کو جو پسند آئے وہ اسے اختیار کر لے۔

آپ کے خیال میں کیا انسان کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ خود اپنی مرضی سے اپنا مذہب اختیار کر سکے؟

Post a Comment

0 Comments