موازنہ


 یوں تو اس مادی دنیا میں بہت سی بیماریاں ہیں، مگر جس بیماری کا ہم ذکر کرنے لگے ہیں اُس کا نام ہے "موازنہ"۔ بچپن ہی
سے ہمارے والدین ہمیں اس بیماری میں مبتلا کر دیتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد ہم خود ہی اس کو پسند کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بچپن میں ہمارے والدین ہمارا موازنہ ہمارے کزن، ہمسائے یا کسی اور عزیز کے ساتھ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر ایک عرصے کے بعد جب وہ اس عظیم  کام سے توبہ کر لیتے ہیں، تو ہم خود ہی اپنے کسی دوست یا کلاس فیلو کے ساتھ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

کچھ لوگ مقابلہ کرنا ایک اچھا عمل سمجھتے ہیں، مگرر یہ چیز آپ کو اس وقت فائدہ دیتی ہے جب آپ اپنا مقابلہ خود اپنے ساتھ کرتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا نہ صرف آپ کی ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کا اثر جسمانی قوت پر بھی نظر آتا ہے۔ ذہنی سکون کا نہ ہونا تو ایک عام سی بات ہوتی ہے۔

آپ اس وقت یہ سوچ رہے ہوں گے کہ  نہیں میں تو کسی کے ساتھ اپنا موازنہیں کرتا یا کرتی۔ اصل میں ہم میں جھوٹ بولنے کی عادت اس قدر ہو گئی ہے کہ ہم نے اب خود سے بھی جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے، اور میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش بھی کروں گا۔

میرا آپ سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کتاب سیکھنے کے لیے کھولتے ہیں یا امتحان میں نمبر لینے کے لیے؟ امتحان میں اچھے نمبر لینا کوئی بری بات نہیں ہے، مگر دوسروں کو دکھانے کے لیے پڑھنا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اب آپ فرض کریں کہ آج آپ کا رزلٹ آتا ہے، کیا آپ کے ذہن میں یہ سوال نہیں آتا کہ اگر میرے نمبر کم آئے تو والدین کیا سوچیں گے؟ میرے بارے میں دوست، اساتذہ یا رشتے دار یا کوئی دوسرا عزیز کیا کہے گا؟ کیا کبھی یہ خیال آتا ہے کہ میں نے اس سال ان کتابوں سے کیا سیکھا ہے؟ امید کرتا ہوں کہ آپ اس دفعہ خود سے جھوٹ نہیں بولیں گے۔

اب اس کے نقصانات کیا ہیں؟ اس پر بھی تھوڑی سی بات کر لیتے ہیں۔ سارا سال اپنا ذہنی سکون برباد کرنے کے بعد اگر ہمارے نمبر ہماری اور لوگوں کی توقعات سے زیادہ آ جائیں (یعنی سادہ الفاظ میں اگر بات کریں تو یعنی اپنے دوستوں سے زیادہ آ جائیں) کیونکہ ہمارا مقابلہ خود سے کم، دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس موقع پر غرور کرنا کچھ لوگوں کی عادت بن جاتا ہے۔ مجھے آج سے تقریباً پانچ یا چھ سال پہلے کا یاد ہے جب میں گیارہویں جماعت میں تھا، تو اُس وقت ہمارے استاد ہمیں کہا کرتے تھے کہ بیٹا غرور کبھی نہ کرنا اور یہ کہنا کہ میں غرور نہیں کرتا یہ بھی سب سے بڑا غرور ہوتا ہے۔ میں آپ سے  یہ امید  کرتا ہوں کہ آپ یہ والی بات نہیں کرتے ہوں گے، کیونکہ اگر غور سے دیکھا جائے یہ بھی خود پر غرور ہی ہے کہ میں یہ کام نہیں کرتا۔ اس لیے ہمیشہ اپنا مقابلہ خود سے ساتھ کیا کریں اور یہ  سوچیں کےمیں نے ٹوٹل نمبروں میں سے اتنے نمبرلینےہی لینے ہیں چاہے ساری دنیا کے مجھ  زیادہ یا کم ہوں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

دوسرا نقصان اس کا

دوسری طرف اگر ہمارے نمبر ہماری توقعات سے کم آ جائیں تو ہم خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے لگتے ہیں، ان لوگوں سے حسد کرنا شروع کر دیتے ہیں جن کو ہم خود سے کم ترسمجھ رہے ہوتے ہیں اور وہ نمبر ہم سے زیادہ لے جاتے ہیں۔ اس لیے موازنہ کرنا دونوں صورتوں میں ہمیں نقصان پہنچاتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "حسد سے بچو! کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو جلا دیتی ہے۔" (سنن ابی داؤد)

خود کا دوسروں سے موازنہ کرنا ہمیں کبھی حقیقی قابل بننے ہی نہیں دیتا۔ آج ہم میں سے بہت سے لوگ قابل بننا نہیں چاہتے، بلکہ قابل دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کبھی اپنے علم میں اضافہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ امتحان میں نمبر لینے کی کوشش کی ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے چیزوں پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے کبھی تاریخ میں دلچسپی نہیں لی، اسی وجہ سے جب ہم سے کوئی آسان سا سوال پوچھا جائے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی سےپہلے صدر کا نام پوچھ لیا جائے تو وہ وزیرِ اعظم یا گورنرجنرل کا نام بتا دیتا ہے۔ اور اگرآخری   گورنر جنرل کا نام پوچھ لیا جائے تو بات ہی ختم ہو جاتی ہے، حالانکہ یہ ایک ہی شخصیت آخری گورنرجنرل اور پہلے صرر کا نام ہے "اسکندر مرزا"ا

ہوسکتا ہے کہ آپ مطالعہ پاکستان میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں، مگر میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ اسلام کے بارے میں ضرور جانتے ہوں گے۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کس بیٹے کی والدہ کا نام  حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نہیں تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کے بعد دوسرے نبی کون تھے؟ اگر آپ کو یہ بھی نہیں معلوم تو اب خود سے یہ جھوٹ نہ بولیے گا کہ سوال مشکل تھا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کی دلچسپی حقیقی قابل بننے سے زیادہ خود کا موازنہ دوسروں سے کر کے ذہنی مریض بننے میں ہے۔

کچھ روز پہلے میں اپنے دوست سے امتحانات کے اوپر بات کر رہا تھا، کہ یار  اگر میں فیل ہو گیا تو پھر کیا ہوگا؟ دوست نے فوراً دوسرے دوست کا نام لے کر بولا جس نے میرے ساتھ امتحان دیا تھا کہ اس نے بھی تو تمہارے ساتھ ہی ہونا ہے۔ تو میں نے  بڑے پیار سے اپنے دوست کو کہا کہ یار میرا اور اُس کا کیا مقابلہ؟ میرے والدین نے میری فیس ادا کی ہے، کل جب مجھ سے میرے رزلٹ کے بارے میں پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گا؟ خیالی نام (اکرام) بھی فیل ہو گیا ہے۔

اس لیے ہمیشہ اپنا مقابلہ خود سے کریں نہ کہ دوسروں سے، کیونکہ ہر کسی کی اپنی ایک الگ کہانی ہوتی ہے، حالات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایک ایک نظریے کا، ہر انسان کی خوشیاں دوسروں سے مختلف ہوتی ہیں، یہاں تک کہ پریشانیاں مختلف ہوتی ہیں۔ میری پسندیدہ چیز آپ کے لیے ناپسندیدہ ترین ہو سکتی ہے۔ ہمارا سوچنے کی صلاحیت اور نظریہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

جیسے کے عباس تابش کا شعر ہے کے

مری کہانی تری کہانی سے مختلف ہے 

کہ جیسے آنکھوں کا پانی، پانی سے مختلف ہے

 

Post a Comment

0 Comments