ذوالحجہ 1440،10ھ (12 اگست 2019ء) عید الاضحیٰ کا دن ہم نے بہت ہی جوش و خروش سے منایا۔ معاف کیجیے گا میں یہاں تھوڑا جذباتی ہو گیا تھا، اصل میں عید کا دن گزارا تھا کیونکہ عید کے تین دن گھر میں گوشت پکتا ہے اور مجھے گوشت بالکل بھی پسند نہیں، اس لیے میں عید گزارتا ہوں نہ کا مناتا۔ اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کی مجھے اجازت نہ تھی کیونکہ میرے گھر والوں کے نزدیک ایسا صرف آوارہ لڑکے کرتے ہیں۔ اور تفریح کے لیے میرے پاس موبائل فون بھی نہ تھا کیونکہ میں اُس وقت دسویں جماعت میں تھا اور نویں جماعت کے رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا، اور اس عمر میں اپنے بچے کو موبائل لے کر دینا میرے گھر والوں کے نزدیک حرام کام تھا۔
عید کے پہلے روز شام کے وقت میرے چھوٹے بھائی داؤد نے ضد کرنا شروع کر دی کہ نانی کے گھر جانا ہے۔ دوسری طرف میں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ میں بالکل بھی نہیں جاؤں گا کیونکہ میرا رزلٹ آنے والا تھا اور 19 تاریخ زیادہ دور نہیں تھی۔ میں بالکل بھی نہیں چاہتا تھا کہ میرا رزلٹ کسی اور کے گھر میں نکلے کیونکہ نمبروں اور موت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، دونوں چیزیں ہی انسان کا دل بند کر دیتی ہیں۔ اور لڑکوں کے نمبر کم آنا کوئی حیران کر دینے والی بات تو نہیں ہوتی مگر مجھے پھر بھی بہت ڈر لگتا تھا۔
میری والدہ کا دل میرے بھائی سے بھی زیادہ جانے کو کر رہا تھا کیونکہ عید کے دنوں میں گندے برتن دھونا کسی بھی ماں، بہن اور بیٹی کو پسند نہیں ہوتا، شاید اسی لیے وہ مجھ سے بار بار جانے کا اصرار کر رہی تھیں۔ بالآخر ہمارے درمیان صرف چار دن رہنے کا معاہدہ طے پایا، جس میں سے ایک دن آنے اور ایک جانے کا تھا۔ پھر والدہ نے ایک بڑا سا بیگ پیک کرنا شروع کر دیا جس میں ہم سب کے کپڑے وغیرہ تھے۔
عید کا دوسرا دن، صبح کے پانچ بج رہے تھے اور سب کے چہروں پر ایک الگ سی خوشی تھی اور وہ نانی کے گھر جانے کی خوشی تھی۔ ٹھیک چھ بجے ایک بس ہماری گلی کے سامنے سے گزرتی تھی جو سیدھا ہمیں ہماری نانی کے شہر "وہاڑی" لے جاتی تھی۔ میرا یہ بس میں وہاڑی جانے کا پہلا سفر تھا کیونکہ اس سے پہلے ہم ہر دفعہ ٹرین کا سفر ہی مناسب سمجھتے تھے۔ لیکن اس دفعہ جانے کی جلدی زیادہ تھی اور ٹرین ایک سے دو گھنٹے دیر سے پہنچتی تھی۔ ابھی جانے میں ایک گھنٹہ باقی تھا اور سب اپنی اپنی تیاری کرتے وقت ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ خیر تیاری مکمل ہوئی اور ہم پورے چھ بجے فٹ پاتھ پر کھڑے دل میں ایک عجیب سی خوشی لیے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بس کا انتظار کر رہے تھے۔ اس سے پہلے کبھی اسی طرح ریل کا انتظار کر رہے ہوتے تھے جو لوگ ریل گاڑی کا سفر کرتے رہتے ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں کہ ریل گاڑی ابھئ تھوڑی سی دور ہی ہوتی ہے تو ریلوے اسٹیشن کی زمین کانپنا شروع کر دیتی ہے۔ اور وہ کانپتی زمین اور ٹرین کی آواز ہمارے دل کے لیے خوشی اور سکون کا باعث ہوتی تھی۔ جس طرح کی خوشی شاید اور کہیں ہمیں بھی محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی الفاظ اس خوشی کو بیان کر سکتے ہیں۔
مگر اس دفعہ بس تھی لیکن خوشی پہلے سے کم نہ تھی۔ عید کے دن کی وجہ سے بس میں ایک بھی سیٹ نہ تھی۔ ہمارے ساتھ فٹ پاتھ پر کھڑی ایک اور فیملی انتظار کر رہی تھی۔ جس نے یہ منظر دیکھ کر کنڈکٹر سے جھگڑا کرنا شروع کر دیا کہ آپ ہمارے لیے پیچھے سے سیٹیں رکھ کر کیوں نہیں آئے۔ انہوں نے تو اس بس پر جانے سے انکار کر دیا مگر ہمارے ارادے پختہ تھے کیونکہ بڑی منزلوں کے مسافر چھوٹا دل نہیں رکھتے۔ اس لیے ہم نے اپنا ارادہ تبدیل نہیں کیا۔ اُس دن جو ہماری کیفیت تھی، میرے چھوٹے بھائی کو اگر بس کی چھت پر بھی بیٹھ کر جانا پڑتا تو بھی وہ انکار نہ کرتا۔
کنڈکٹر نے کسی طرح میری والدہ کے بیٹھنے کا انتظام کیا مگر ہمارے معصوم چہروں پر اُس کو کوئی ترس نہ آیا اور اگر آتا بھی تو والدہ کی گود کے علاوہ اور کوئی جگہ نہ ہوتی۔ مگر اس میں بیٹھنے کے لیے مجھے دس سال پیچھے جانا پڑنا تھا۔ قصور تک تو میں بس کے کھلے دروازے میں تازہ ہوا میں کھڑا رہا، مگر پھر کسی طرح سے ہمیں تین سیٹوں والی جگہ مل گئی مگر ہم تھے چار، جس میں تین بچے اور ایک والدہ تھی۔ اور اس کا فائدہ میری والدہ کو ہوا کیونکہ انہوں نے پیسے بھی تین سیٹوں کے دیے۔
چھ گھنٹوں کا یہ سفر جاری رہا۔ وہاڑی سے دو سٹاپ پہلے بورے والا آتا ہے اور جب بس بورے والا پہنچتی ہے تو ایک عجیب خوشی کی لہر ہمارے دلوں میں دوڑنے لگتی ہے۔ بس تھوڑی ہی دیر بعد ہمارا یہ سفر ختم ہوا اور ہم اب وہاڑی بس سٹاپ پر کھڑے تھے۔ اس سے پہلے ہمارے ماموں رکشے والے کو لے کر ہمارا انتظار کر رہے ہوتے تھے، مگر اس دفعہ ہم بڑے ہو گئے تھے اور ہم نے انہیں فون کر کے منع کر دیا تھا کہ ہم خود ہی رکشہ لے کر آ جائیں گے اور ٹھیک ویسے ہی کیا۔
اور اب ہم ٹھیک 11:45 پر اپنے ماموں کے گھر کے باہر کھڑے تھے۔ ماموں لوگ رہتے تو شہر میں تھے مگر گاؤں کے گھروں کی طرح ان کا دروازہ کھلا رہتا تھا کیونکہ وہ اوپر رہتے تھے اور نیچے والے کمروں میں سامان اور دروازوں کو تالا لگا ہوتا تھا۔ دروازے کے ساتھ ہی سیڑھیاں تھیں جن کو ہم اگر خوشی والی سیڑھیاں بولیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ان کو چڑھتے وقت خوشی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا تھا۔ مگر پتہ نہیں کیوں ہم شرما بھی رہے ہوتے تھے۔
ماموں کے گھر کی سیڑھیاں ختم ہوتے ہی صحن شروع ہو جاتا تھا اور اس کے آگے لوہے کی ایک گرل لگی ہوئی تھی جو گھر میں داخل ہوتے وقت پہلا دروازہ تھا اور اس کے ساتھ ہی ایک مہمانوں کے لیے کمرہ تھا جس میں ہم جا کر اپنا سامان رکھتے اور آرام کرتے۔ ہم نے ابھی سامان رکھا ہی تھا کہ فوراً مامی بولیں: "آپ لوگ تو کافی جلدی اگئے اس دفعہ ابھی تو 12 بھی نہیں بجے" مگر ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے ہمارے لیے کھانا تیار کر رھکا تھا۔میں بڑا اور چھوٹا گوست نہیں کھاتا اس بات کا علم مامی کو پتہ نہیں کیسے تھا۔ اس لیے میرے لیے چکن تکہ تیار کر رکھا تھا ۔اور پھر مامی نے بتایا کے ہمیں پتہ تھا کہ زین اور تو کچھ نہیں کھاتا اس لیے اس کی آپی نے اس کے لیے یہ سب کچھ تیار کر لیا ۔ہمارے ماموں کی فیملی بھی ہمارے جتنی ہی تھی دو بھائی اور ایک بہن۔ ماموں کا چھوٹا بیٹا مجھ سے ایک ماں اور چند دن چھوٹا تھا باقی دو بہن بھا ئی بڑے تھے ۔ ہمارے وہاں جانے کی خوشی ہم سے زیادہ ہمارے کزنوں کو بھی تھی کیونکہ ہم سب مل کر طرح طرح کے کھانے کھاتے اور خوب مزہ کرتے۔
پیزا:
میں آپ کوایک بہت ہی مزیدار اور واقعہ سنانے جا رہا ہوں جو کہ ہے تو اس سفر سے پرانا مگراس کو بیان نہ کرنا بڑی ناانصافی ہوگی۔ ہم نے کبھی اس طرح کا پیزا نہ کھایا تھا جس طرح کا وہ وہاڑی میں ملتا تھا کیونکہ 2019ء میں مصطفٰی آباد میں کوئی پیزا کی دکان یہ ریسٹوڑنٹ نہ تھا۔ اگر بیکری سے ملتا بھی تھا تو پہلے سے تیار شدہ کافی دن پرانا ہوتا تھا۔ اس لیے ہم سب نے پیسے اکٹھے کیے مگر مامو کے چھوٹے بیٹے اور بڑی بیٹی کےپاس پیسے نہ تھے۔ اس لیے پیسے ملانے والے ہم پانچ لوگ تھے ۔ ہم تین بہن بھائی ماموں کا بڑا بیٹا عمیر بھائی اور ایک اور کزن تھی جو میری والدہ کے مرحوم چاچا کی بیٹی تھی جو رشتے میں تو ہماری کھالہ تھی مگر عمر میں ہم سے بھی چھوٹی تھی۔ ہم پیزا لے کر گھر پہنچے اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا تاکہ کوئی مفت خور اندر نہ آ سکے۔ مگر میرا چھوٹا کزن جو کہ دوسرے کمرے میں سو رہا تھا، اس نے اپنی والدہ سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ "میں نے اس کمرے میں جا کر سونا ہے جس میں وہ پیزا کھا رہے ہیں"۔ پہلے توہم نے اسے آنے کی اجازت نہ دی مگر مامی کے کہنے پر اسے اندر آنے دیا مگر سونے کے لیے۔
لیکن دوسری طرف کمرے میں ایک کھڑکی لگی تھی جس کی جالی میں ایک بڑا سا سوراخ تھا جس میں ہاتھ ڈالے ایک لڑکی ہم سے پیزا مانگ رہی تھی۔ وہ لڑکی اور کوئی نہیں میرے ماموں کی بڑی بیٹی یعنی ہماری بڑی بہن تھی جو بار بار یہ پکار رہی تھی "مجھے بھی دے دو"۔ مگر ہم کھانے میں مصروف تھے۔ پھر تھوڑی دیر بعد یاد آیا یہ ترنم ہماری بڑی بہن ہے، پیزا مانگتی آواز پر ترس بھی آ گیا اور ہم نے تھوڑا سا پیزا اسے بھی دے دیا۔ اسی وقت چھوٹے کزن کو بھی یاد آیا کہ میں بھی اسی کمرے میں ہوں، وہ بھی فوراً اٹھا اور بولا "یار مجھے بھی دے دو"۔ ہم سب نے اس بات پر زور سے ہنسنا شروع کر دیا کیونکہ پیزا ختم ہو گیا تھا۔ عمیر بھائی نے اوپر سے اسے مارا بھی، اس نے تو رونا شروع کر دیا۔ اسی وقت مامی ہاتھ میں جوتا لیے کمرے میں داخل ہوئیں اور عمیر بھائی کو مارنا شروع کر دیا مگر سب جوتے عمیر بھائی کے ہاتھ پر ہی لگے۔کمرے میں ایک ڈر کا ماحول پیدا ہو گیا جو کہ تھوڑی دیر ہی قائم رہا۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں مگر اس کے لیے مجھے ایک پوری کتاب لکھنی پڑے گی، لیکن میرا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے، مگر کبھی ہو بھی سکتا ہے۔
اسی طرح ہمارے رہنے کے دن مکمل ہوئے اور ہم نے دوبارہ اپنا بیگ پیک کرنا شروع کر دیا۔ اور وہ بھی دکھ کے ساتھ کیونکہ نانی کے گھر سے واپس آنے کا دل ہی نہیں کیا۔
اس سفر کو ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ میری والدہ اور ان کے بھائیوں کا کوئی مسئلہ کھڑا ہو گیا، جس کو اگر غلط فہمی کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا، مگر اس غلط فہمی کو دور ہوتے ہوتے بھی پانچ سے چھ سال لگ گئے۔ اس غلط فہمی نے بڑوں سے تو کچھ نہ چھینا مگر بچوں سے ان کی نانی کا گھر چھین لیا، ان کی وہ ریلوے اسٹیشن والی خوشی، سیڑھیوں والی خوشی، ان سے ان کا بچپن، ان کے پیار کرنے والے رشتہ دار، بہن ،بھائی اور وہ پہلے والا تعلق، کچھ بھی نہ رہنے دیا سب کچھ چھین لیا۔ غلط فہمی تو دور ہو گئی لیکن ہم سے ہمارا بچپن چلا گیا۔ اور نہ ہی اب اتنا وقت ہوتا ہے کہ جا کر پہلے کی طرح ہفتہ بھر ریا جائے۔
اس لیے جو کوئی بھی والدین میری یہ بات پڑھ رہے ہیں، میں ان سے صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ اپنی غلط فہمیاں ذرا جلدی دور کر لیا کریں ورنہ اپنے بچے بھی پڑھائی اور کام میں اتنا مصروف ہو جائیں گے کہ وہ چاہ کر بھی کچھ نہ کر پائیں گے۔ اور یہ تھا میرا نانی کے گھر کا آخری سفر۔


0 Comments